19 ستمبر 2010 - 19:30

امریکا میں قرآن مجید کی توہین جیسا نفرت انگیز اور مکروہ اقدام جو امریکی پولیس کی سیکورٹی کے سائے میں انجام پایا، ایک عظیم اور تلخ سانحہ ہے جس کو چند بے قدر و قیمت اور بکے ہوئے عناصر کی احمقانہ حرکت کے دائرے تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔

یہ ان مراکز کی طرف سے ایک طے شدہ منصوبے کا نتیجہ ہے جو کئی برسوں سے اسلام کے خلاف جنگی صورتحال پیدا کرنے کی پالیسی کو اپنے ایجنڈے میں شامل کئے بیٹھے ہیں اور سیکڑوں روشوں اور ہزاروں تشہیراتی اور عملیاتی اوزاروں سے اسلام اور قرآن کے خلاف جنگ لڑرہے ہیں، یہ شرمناک سلسلہ ایک مرتد سلمان رشدی کی خیانت سے شروع ہوا، ڈنمارک کے خبیث کارٹونسٹ کی گستاخی اور ہالی وڈ میں دسیوں فلموں کی شکل میں جاری رہا اور اب یہ سلسلہ اس نفرت انگیز نمائش تک آن پہنچا ہے، ان شرارت انگیز اقدامات کے پس پردہ کیا ہے اور کون ہے؟ ان خیالات کا اظہار علامہ شبیر میثمی نے قرآن پاک کی بے حرمتی کے خلاف کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مظاہرے سے مفتی ممتاز یار خان، علامہ شبیر میثمی، علامہ ناصر عباس نقوی اور علامہ محمدعلی نقوی نے خطاب کیا۔علامہ شبیر میثمی نے کہا کہ اسلام انسان کی آزادی اور معنویت کا دین اور قرآن رحمت و حکمت اور عدل و انصاف کی کتاب ہے، تمام حریت پسند انسانوں اور تمام ابراہیمی ادیان کا فرض ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ ملکر ان نفرت انگیز اقدامات کے ذریعے اسلام کے خلاف لڑی جانے والی جنگ کا مقابلہ کریں۔ برس ہا برس سے افغانستان، پاکستان، عراق، لبنان اور فلسطین میں کروڑوں مسلمانوں کے تمام حقوق اور تمام حرمتیں پاؤں تلے روندی گئی ہیں، تمام مظلومیتوں کے باوجود مغرب کے عالمی ذرائع ابلاغ میں مسلمانوں کو کیوں تشدد کا مظہر اور اسلام و قرآن کو انسانیت کیلئے خطرہ بناکر پیش کیا جارہا ہے۔ علامہ ناظر عباس تقوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امت مسلمہ بیدار ہوگئی ہے اور مسلم اقوام نے جارحیت کی زنجیریں توڑنے کا ارادہ کرلیا ہے۔ علامہ جعفر سبحانی نے کہا کہ ہم سب کو جان لینا چاہئے کہ ”حالیہ قرآن پاک کی توہین کا کلیسہ و عیسائیت سے کوئی تعلق نہیں ہے، چند احمق اور بکے ہوئے پادریوں کی کٹھ پتلیوں کی مانند حرکتوں کو عیسائیوں اور ان کے دینی بزرگوں کی طرف منسوب نہیں کرنا چاہئے۔“ ہم بحیثیت مسلمان دیگر ادیان کے حوالے سے اقدامات عمل میں نہیں لائیں گے۔ عمومی سطح پر مسلم اور عیسائی کے درمیان جھگڑا دشمنان اسلام اور جنون و دیوانگی کی حالیہ نمائش کے منصوبہ سازوں کا مطمع نظر اور خواہش ہے اور ہمارے لئے قرآن کا درس ان کے منصوبے اور ان کی خواہشات کی مخالف سمت قرار پایا ہے۔ آج تمام مسلمانوں کے مطالبات کا رخ امریکی انتظامیہ اور امریکی سیاستدانوں کی جانب ہے، اگر وہ عدم مداخلت کے اپنے دعوے میں سچے ہیں تو اس عظیم اور ناقابل معافی جرم کے اصل عامل نیز اس کے میدانی کرداروں کو جنہوں نے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے قلوب کو دکھ اور صدمے سے دوچار کیا ہے، مناسب انداز میں کیفر کردار تک پہنچائیں۔ بعدازاں مظاہرین نے امریکی قونصلیٹ تک مارچ کی کوشش کی تاہم پولیس کی بھاری نفری نے انہیں امریکی قونصلیٹ جانے سے روک دیا۔  

...........

/110